اسلامی فنانس کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے ؟
اسلامی فنانس کے بنیادی اصول
1. سود (ربا) سے اجتناب : قرآن میں سود کو سختی سے منع کیا گیا (سورۃ البقرہ: 275-279)۔ اسلامی فنانس میں کوئی بھی لین دین سود پر مبنی نہیں ہوتا۔
2. خطرے کی تقسیم: مالیاتی لین دین میں منافع اور نقصان دونوں فریقین کے درمیان منصفانہ طور پر تقسیم ہوتا ہے۔
3. حلال سرمایہ کاری: سرمایہ کاری صرف حلال کاروبار (مثلاً زراعت، تجارت) میں کی جاتی ہے۔ حرام شعبوں (مثلاً شراب، جوا، سؤر) سے اجتناب کیا جاتا ہے۔
4. غیر یقینی (غرر) سے اجتناب: غیر واضح یا دھوکہ دہی پر مبنی معاہدات ممنوع ہیں۔ تمام شرائط شفاف ہونی ہوتی ہیں۔
5. اصل اثاثوں سے تعلق: مالیاتی لین دین کسی حقیقی اثاثے (مثلاً جائیداد، اشیاء) سے منسلک ہوتا ہے، خالی قیاس آرائی (سٹہ بازی) جائز نہیں ہے۔
6. اخلاقیات اور انصاف: لین دین میں ایمانداری، شفافیت، اور معاشرتی فلاح کا خیال رکھا جاتا ہے۔
اسلامی فنانس کے اہم آلات
1. مضاربت: شراکت داری کا معاہدہ جہاں ایک فریق سرمایہ فراہم کرتا ہے اور دوسرا کاروبار چلاتا ہے۔ منافع طے شدہ تناسب سے تقسیم ہوتا ہے، جبکہ نقصان سرمایہ کار برداشت کرتا ہے۔
2. مشارکت: دونوں فریق سرمایہ اور کام میں حصہ ڈالتے ہیں، اور منافع و نقصان دونوں مشترکہ طور پر برداشت کرتے ہیں۔
3. مرابحہ : بینک یا مالیاتی ادارہ کسی چیز کو خرید کر کلائنٹ کو مقررہ منافع کے ساتھ قسطوں میں فروخت کرتا ہے۔
4. اجارہ : کرایہ پر مبنی معاہدہ، جیسے جائیداد یا سامان لیز پر دینا۔
5. سکوک: اسلامی بانڈز جو اصل اثاثوں سے منسلک ہوتے ہیں اور سرمایہ کاروں کو منافع کی شکل میں ادائیگی کرتے ہیں، نہ کہ سود۔
6. قرض حسنہ : بلا سود قرض جو خیرات یا سماجی فلاح کے لیے دیا جاتا ہے، صرف اصل رقم واپس لی جاتی ہے۔
اسلامی فنانس کی خصوصیات
– سود سے پاک بینکنگ: اسلامی بینک سود کے بجائے شراکتی یا کرایہ پر مبنی ماڈل استعمال کرتے ہیں۔
– شریعت بورڈ کی نگرانی: ہر اسلامی مالیاتی ادارے میں شریعت کے ماہرین کا بورڈ ہوتا ہے جو لین دین کی شرعی مطابقت کی تصدیق کرتا ہے۔
– معاشرتی فلاح: زکوٰۃ، خیرات، اور منصفانہ معاشی نظام کے ذریعہ غربت کم کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔
– شفافیت: معاہدات میں تمام شرائط واضح ہوتی ہیں، اور دھوکہ دہی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔
اسلامی فنانس کے فوائد
– معاشی استحکام، کیونکہ یہ قیاس آرائی اور غیر یقینی سے پاک ہے۔
– دولت کی منصفانہ تقسیم، کیونکہ زکوٰۃ اور خیرات غربت کم کرتی ہیں۔
– اخلاقی سرمایہ کاری سے معاشرتی بہتری۔
– سود کی وجہ سے مالیاتی بحران کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
:مثال
فرض کریں آپ گھر خریدنا چاہتے ہیں۔ اسلامی بینک آپ کے لیے گھر خریدتا ہے اور اسے مرابحہ کے تحت آپ کو مقررہ منافع کے ساتھ قسطوں میں فروخت کرتا ہے۔ اس میں کوئی سود شامل نہیں ہوتا، اور قیمت شروع سے طے شدہ ہوتی ہے۔
چیلنجز
– عالمی مالیاتی نظام میں سود پر مبنی ڈھانچے کا غلبہ۔
– اسلامی فنانس کے بارے میں محدود آگہی۔
– مختلف ممالک میں شریعت کے قوانین کی مختلف تشریحات۔
– اسلامی مالیاتی اداروں کی رسائی اور پیمانے کی کمی۔
موجودہ منظرنامہ
– اسلامی فنانس عالمی سطح پر تیزی سے ترقی کر رہا ہے، خاص طور پر خلیجی ممالک، ملائیشیا، اور ترکی میں۔
– سکوک (اسلامی بانڈز) اور اسلامی بینکنگ عالمی مالیاتی منڈیوں میں مقبول ہو رہے ہیں۔
– غیر مسلم ممالک، جیسے برطانیہ اور جاپان، بھی اسلامی فنانس کو اپنا رہے ہیں۔

محمد فہیم عبدالخالق ندوی سہارن پوری ایک ممتاز عالم دین اور سائنس دان ہیں۔ انہوں نے دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ سے شعبۂ تاریخِ و دعوہ سے تخصص کیا اور فاضل کی ڈگری لی۔ ساتھ ہی انہوں نے ماں شاکنبھری کالج، سہارنپور سے بی ایس سی کی ڈگری مکمل کی، جو ان کے دینی و سائنسی علوم کے امتزاج کی عکاسی کرتی ہے۔ وہ اپنے علم، تدریسی صلاحیتوں اور سماجی خدمات کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ ان کی زندگی دینی اقدار اور جدید تعلیم کے ہم آہنگ توازن کی مثال ہے۔
موضوعات: رد شبہات ، تقابل ادیان ،قرون وسطیٰ کے مسلمانوں کے سائنسی کارنامے ، عصر جدید میں اسلامی اداروں کا نصاب تعلیم ۔
تصنیفات:
ابن الہیثم اور الخازنی حیات و کارنامے
دین کی بنیادی باتیں
عقائد کی بنیادی باتیں
ماڈرن زمانہ کی اسلامی زندگی