دنیا کے مذاہب میں عورت کا تخیل
قسط۔۔۔۔۔1
✍️ محمد فہیم عبدالخالق ندوی سہارن پوری
دنیا کے مختلف مذاہب میں عورت کے تصور پر بات کرتے وقت ہمیں تاریخی، سماجی اور ثقافتی سیاق و سباق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ مندرجہ ذیل معلومات میں قدیم مصری مذہب، حمورابی کی شریعت، زرتشتیت، یہودیت، عیسائیت، بدھ مت، جین مت،کنفیوشس ازم، مسیحی یورپ کی عورت کے تصور کو بیان کیا گیا ہے
قدیم مصری مذہب
قدیم مصری مذہب (تقریباً 3100-332 قبل مسیح) میں عورت کی حیثیت دیگر قدیم تہذیبوں کے مقابلے میں نسبتاً بہتر تھی، لیکن یہ اب بھی ایک پدرسری نظام تھا، مصری مذہب میں عورت کو دیویوں (جیسے ایسیس، ہتھور) کی صورت میں بلند مقام دیا گیا۔ ایسیس کو ماں اور جادوگرنی کے طور پر پوجا جاتا تھا، جو عورت کی تخلیقی طاقت کی علامت تھی۔
قدیم مصری مذہب کے مطابق عورتیں جائیداد کی مالک ہو سکتی تھیں، معاہدے کر سکتی تھیں، اور فرعون (مصر کے ہر بادشاہ کا لقب فرعون ہوتا تھا) کی عدالتوں میں مقدمات لڑ سکتی تھیں، کچھ عورتیں، جیسے ہتشیپسٹ اور کلیوپیٹرا، فرعون بن کر حکمران بنیں، تاہم، عام عورت کی زندگی گھریلو ذمہ داریوں تک محدود تھی۔
توضیح: قدیم مصری مذہب نے عورت کو سماجی اور مذہبی طور پر کچھ خودمختاری دی، لیکن اس کی حیثیت طبقاتی نظام سے مشروط تھی، اعلیٰ طبقے کی عورتوں کو زیادہ حقوق حاصل تھے جب کہ نچلے طبقے کی عورتیں ان تمام حقوق میں برابر کی شریک نہیں سمجھی جاتی تھیں۔
حوالہ:
Tyldesley, J. (1995). Daughters of Isis: Women of Ancient Egypt.
1. حمورابی کی شریعت
حمورابی (تقریباً 1792-1750 قبل مسیح) بابل کے مشہور بادشاہ تھے، جنہوں نے ایک منظم قانونی ضابطہ (Code of Hammurabi) ترتیب دیا، جو قدیم مشرق وسطیٰ کے اولین تحریری قوانین میں سے ایک ہے۔ اس قانون میں عورت کی حیثیت کو سماجی ڈھانچہ کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، جو اس دور کے پدرسری نظام کی عکاسی کرتا ہے۔
عورت کی حیثیت: حمورابی کے قانون میں عورت کو مکمل طور پر آزاد شہری کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔ وہ یا تو اپنے باپ، بھائی یا شوہر کے ماتحت ہوتی تھی۔ عورتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا تھا ، مثال کے طور پر قانون نمبر 129 کے مطابق، اگر کوئی شادی شدہ عورت زنا کی مرتکب پائی جاتی تھی، تو اسے اور اس کے ساتھی کو پانی میں ڈبو کر مار دیا جاتا تھا، جبکہ مرد کے لیے سزا بعض اوقات کم سخت ہوتی تھی۔
قتل کے بدلہ کی سزا: اگر کوئی شخص کسی کی بیٹی کو قتل کرتا تھا، تو قاتل کو اپنی بیٹی حوالے کرنی پڑتی تھی۔ یہ قانون (نمبر 210) اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عورت کو ایک “جائیداد” یا “بدلہ” کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ یہ قانون اس دور کے سماجی ڈھانچہ کی عکاسی کرتا ہے، جہاں عورت کی جان کی قیمت کو خاندانی عزت سے جوڑا جاتا تھا۔
توضیح: حمورابی کی شریعت عورت کو مکمل انسانی حقوق دینے سے قاصر تھی، لیکن اسے مکمل طور پر پالتو جانور سمجھنا بھی درست نہیں، عورت کو بعض حالات میں جائیداد کے حقوق اور طلاق کے محدود حقوق حاصل تھے، لیکن یہ حقوق مردوں کے مقابلے میں بہت محدود تھے۔
حوالہ:
The Code of Hammurabi, ترجمہ L.W. King (1915), Avalon Project, Yale Law School.
زرتشتیت
زرتشتیت، جو زرتشت (تقریباً 1500-1000 قبل مسیح) کی تعلیمات پر مبنی ہے، قدیم ایرانی مذہب ہے جو عورت کے بارے میں نسبتاً متوازن نظریہ رکھتا ہے، زرتشتی نصوص، جیسے اوستا، عورت کو مرد کے ساتھ مل کر تخلیق کا حصہ مانتی ہیں۔ عورت کو گھر کی سربراہ (بانوی) کے طور پر عزت دی جاتی تھی، اور وہ مذہبی رسومات میں شریک ہو سکتی تھی۔ تاہم، حیض کے دوران عورت کو ناپاک سمجھا جاتا تھا، اور اسے عبادت سے دور رکھا جاتا تھا۔
زرتشتی قانون (وندیداد) میں عورت کو جائیداد کے حقوق اور شادی میں کچھ خودمختاری دی گئی، لیکن وہ مکمل طور پر مرد کے برابر نہ تھی، طلاق اور اس جیسے معاملات میں مرد کو زیادہ اختیار تھا۔
توضیح: زرتشتیت نے عورت کو سماجی اور مذہبی زندگی میں اہم کردار دیا، لیکن اس کی حیثیت مرد سے کم رہی، ایام حیض میں اسے ناپاک سمجھ کر عورت کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا یہ ظلم کی طرف اشارہ کرتا ہے، البتہ جدید زرتشتی کمیونٹیز میں عورت کی برابری پر زیادہ زور دیا جاتا ہے
حوالہ:
Boyce, M. (1975). A History of Zoroastrianis
m, Vol. 1; Avesta, Vendidad.

محمد فہیم عبدالخالق ندوی سہارن پوری ایک ممتاز عالم دین اور سائنس دان ہیں۔ انہوں نے دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ سے شعبۂ تاریخِ و دعوہ سے تخصص کیا اور فاضل کی ڈگری لی۔ ساتھ ہی انہوں نے ماں شاکنبھری کالج، سہارنپور سے بی ایس سی کی ڈگری مکمل کی، جو ان کے دینی و سائنسی علوم کے امتزاج کی عکاسی کرتی ہے۔ وہ اپنے علم، تدریسی صلاحیتوں اور سماجی خدمات کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ ان کی زندگی دینی اقدار اور جدید تعلیم کے ہم آہنگ توازن کی مثال ہے۔
موضوعات: رد شبہات ، تقابل ادیان ،قرون وسطیٰ کے مسلمانوں کے سائنسی کارنامے ، عصر جدید میں اسلامی اداروں کا نصاب تعلیم ۔
تصنیفات:
ابن الہیثم اور الخازنی حیات و کارنامے
دین کی بنیادی باتیں
عقائد کی بنیادی باتیں
ماڈرن زمانہ کی اسلامی زندگی