فاتح سمرقند قتیبہ بن مسلم

فاتح سمرقند قتیبہ بن مسلم

✍️محمد فہیم عبدالخالق ندوی سہارن پوری

قتیبہ بن مسلم باہلی (669ء–715ء) ایک مشہور اموی فوجی کمانڈر تھے جنہوں نے وسطی ایشیا میں اسلامی فتوحات میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ بصرہ میں پیدا ہوئے اور اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان کے دور میں خراسان کے گورنر مقرر ہوئے۔

سمرقند کی فتح:
قتیبہ نے 712ء میں سمرقند کو فتح کیا، جو اس وقت وسطی ایشیا کے اہم شہروں میں سے ایک تھا۔ یہ فتح ان کی مہمات کا حصہ تھی جو ماوراء النہر (موجودہ ازبکستان، تاجکستان اور قازقستان کے علاقوں) میں اسلامی سلطنت کی توسیع کے لیے شروع کی گئیں۔ سمرقند پر قبضہ کرنے سے پہلے، قتیبہ نے بخارا اور خوارزم جیسے شہروں کو بھی فتح کیا ، سمرقند کی فتح نے نہ صرف اموی سلطنت کی سرحدوں کو وسعت دی بلکہ تجارت اور ثقافت کے اہم مرکز پر اسلامی اثر و رسوخ کو مضبوط کیا۔

فوجی مہارت: قتیبہ ایک ماہر فوجی کمانڈر تھے۔ انہوں نے مقامی قبائل کے ساتھ اتحاد بنائے اور کبھی سفارت کاری تو کبھی طاقت کا استعمال کیا۔
فتح شدہ علاقوں میں انہوں نے اسلامی نظام حکومت کو نافذ کیا اور مقامی آبادی کو جزیہ ادا کرنے کی پابندی کی۔
ان کی فتوحات نے وسطی ایشیا میں اسلام کے پھیلاؤ کو تیز کیا اور مقامی ثقافتوں کے ساتھ اسلامی اقدار کو فروغ کیا۔
715ء میں، خلیفہ ولید اول کی وفات کے بعد، نئے خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کے ساتھ قتیبہ کے تعلقات خراب ہوگئے۔ قتیبہ کو خدشہ تھا کہ نیا خلیفہ انہیں عہدے سے ہٹا دے گا، اس لیے انہوں نے بغاوت کی کوشش کی۔ تاہم، ان کے اپنے فوجیوں نے ان کے خلاف سازش کی اور انہیں قتل کر دیا۔
قتیبہ بن مسلم کو وسطی ایشیا میں اسلامی فتوحات کے ایک عظیم رہنما کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی مہمات نے نہ صرف اموی سلطنت کی سرحدیں وسعت دیں بلکہ خطہ میں اسلام کے مستقل اثر ورسوخ کو قائم کیا۔ سمرقند اور بخارا جیسے شہر اسلامی ثقافت اور علم کے مراکز بن گئے جو صدیوں تک عالم اسلام کے مراکز بنے رہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *